نئی دہلی،16 /دسمبر(آئی این ایس انڈیا) مرکزی وزیر نتن گڈکری نے بدھ کے روز کہا کہ کسانوں کوگمراہ کرنے اور ان کی تحریک سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کسانوں کی تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ حکومت سے بامقصد بات چیت کرتے ہوئے تعطل کو ختم کریں۔
بی جے پی کے سینئر رہنما اور سابق صدر نے کہا کہ اس معاملے پر بیرونی ممالک کی طرف سے آنے والے بیانات غیر منصفانہ اور بلا وجہ ہیں کیوں کہ ہندوستان نے کبھی کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کی ہے۔
نتن گڈکری نے کہاکہ کچھ طاقتیں کسانوں کو گمراہ کرنے اور مظاہرے کا استحصال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس طرح کی سیاست ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ جمہوریت میں حکومت مذاکرات کے لئے تیار ہے،ہم ان کے حقیقی مطالبات کو ماننے کے لئے تیار ہیں۔ انہیں آگے آکر بات کرنا چاہئے۔ مسئلے کو بات چیت سے حل کرنے کا ایک ذریعہ قرار دیتے ہوئے گڈکری نے کہا کہ جب حکومت مذاکرات کے لئے تیار ہے تو کسانوں کو بھی آگے آنا چاہئے کیونکہ جہاں بات چیت نہیں ہوگی، وہاں مسائل اور غلط فہمیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وزیر نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آرہی ہے کہ نکسلیوں کی حمایت کرنے والے لوگوں کی تصاویر جن کا کسانوں سے کوئی رشتہ نہیں رہا ہے وہ کسانوں کے احتجاج کے دوران کیوں نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو ایسے عناصر کی کوششوں کو ناکام بنانا چاہئے اور حکومت کے ساتھ تینوں زرعی قوانین پر بات چیت کرنی چاہئے۔ یہ پوچھے جانے سے کہ تعطل ختم کیوں نہیں ہورہا ہے توگڈکری نے کہا کہ کسان تنظیموں کو سمجھنا چاہئے کہ کچھ عناصر ان کو گمراہ کرناچاہتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ لوگ جو صرف منڈی میں سامان فروخت کرنے کی بات کررہے ہیں دراصل وہ ہیں جو کسانوں کے ساتھ ناانصافی کررہے ہیں۔
زرعی قوانین کارپوریٹس اور صنعتکاروں کو فائدہ پہنچانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے گڈکری نے کہا کہ یہ صرف کسانوں کے مفاد کے لئے ہیں اور بہت سوچ سمجھ کر بنائے گئے ہیں۔